مسجد قرض دار ، خدمت گار مالدار کیوں ؟

  اِس حساس ترین دینی موضوع پر لکھنا میرے لئے آسان نہیں تھا بلکہ آگ کے انگارے پر برہنہ پاؤں چلنے جیسا ہے کیونکہ تحریر میں چشم کشا...

584 0
584 0

 

اِس حساس ترین دینی موضوع پر لکھنا میرے لئے آسان نہیں تھا بلکہ آگ کے انگارے پر برہنہ پاؤں چلنے جیسا ہے کیونکہ تحریر میں چشم کشا حقائق کی نقاب کشائی کے بعد پیٹ پرست نام نہاد خدمت گار مسجد کمیٹی کا غصہ و اشتعال ابلتے ہوئے پانی کی طرح شدید گرم ہو جائے گا ۔ چنانچہ یہی غصہ اس بات کی غمازی کرے گا کہ یہ ڈھونگی دیانت دار ہیں یا خیانت دار ۔ کیونکہ نیک نیتی اور شفافیت کے ساتھ دینی خدمات سر انجام دینے والا کبھی خوفزدہ نہیں ہوگا بلکہ سینہ ٹھوک کر مسجد کی مالی امانت کا حساب و کتاب دے دے گا ۔ جب کہ عموماً ایسا نہیں ہوتا ہے کہ کوئ بغیر اُلجھے یا جھگڑے یا باہم دست و گریباں چاک کئے مسجد کھاتہ کا حساب عوام کے سامنے پیش کر دے ۔

شائد ہی کوئی ایسا خوش قسمت جمعہ کسی بھی مسجد میں گزرتا ہو کہ جس میں چندہ مانگنے کی عاجزانہ درخواست نہ کی جاتی ہو اور بار بار امام مسجد کو تاکید کی جاتی ہے آپ چندہ دینے کے فضائل و ثواب بیان کریں تاکہ لوگ بھرپور چندہ دیکر ہم پر اپنے اعتماد کا اظہار کریں خواہ وہ دل میں مسجد کمیٹی کو چور اور پیدا گیر سمجھ رہے ہوں لیکن زبان سے اعلان نہیں کر رہے ہوں ۔ مسجد کے مالی معاملات میں خرد برد اب خوف خدا کی علامت نہیں سمجھا جاتا ہے بلکہ اِسے بھی حق خدمت سمجھ کر من پسند شرعی اصولوں کے مطابق کیا جاتا ہے کیونکہ اِس بارے میں عوام کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ جو لگاتا ہے تو وہ کھاتا بھی ہے ۔

یہ مذہبی خیانت ہر مکتبہ فکر کی مسجد میں عروج پر ہے ۔ لیکن اس لوٹ کھسوٹ کی مہم میں بریلوی مسلک کی مساجدوں کی کمیٹیاں صف اول میں کھڑی ہوئی نظر آئینگی ۔ کیونکہ یہاں احتساب کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے ، اس سچائی کا سیدھا سادھا موازنہ کرنا ہو تو صرف مسجد کمیٹی کا شاہانہ لباس و رہائش ، لامحدود اخراجات اور کاروبار و جائیداد کی تفصیلات حاصل کرلیں تو چشم کشا حقائق سامنے کھل کر آجائے گی ۔ کیونکہ جب تک مسجد کمیٹی میں یہ لوگ شامل نہیں ہوتے ہیں تو عام طور پر غریبی ، تنگدستی ،بے روزگاری اور مفلسی کا شکار رہتے ہیں لیکن جوں ہی خدمت مسجد کی زمہ داری ملتی ہے تو چند سالوں میں ہی سب کے سب مالدار ، صاحب ثروت اور کاروباری شخصیت بن جاتے ہیں ، مسجد کمیٹی کی زمہ داری ایک کرشماتی چراغ کے مانند ہے جس میں ہر رکن مسجد خوب خوب فیضاب ہوتا ہے

مسجد اللّٰہ عزوجل کا پاک گھر ہے لیکن اِسے قرض دار کہہ کہہ کر اِسکی مذہبی قدر و منزلت کی توہین کی جاتی ہے جو کہ سنگین غلطی ہے کیونکہ مسجدیں غنی ہوتی ہے نہ کہ مقروض ۔ چنانچہ خالص مذہبی جذبوں سے شرشار ہو کر مسجد کمیٹیاں دینی ڈکیتیوں کی یہ واردات ڈالتی ہے ، ہاں اِس مال غنیمت کے بٹوارے میں صرف اکیلا صدر مسجد نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ اپنے ہم خیال دیگر اراکین کو بھی فراخدلانہ شمولیت کی دعوت عام دیتا ہے تاکہ اندر کی کہانی اندر ہی رہے اور باہر کسی طرح بھی نہ نکل سکے ۔ اگر پاکستان میں سعودی عرب کی طرح اسلامی قوانین نافذ العمل ہوتا تو چالیس فیصد مسجد کمیٹی کے لوگوں کا ایک ہاتھ کٹا ہوا ملتا کیونکہ جب شرعی اصولوں پر مبنی مالی خرد برد کا سراغ لگایا جاتا تو پاکستانی مسجد کمیٹیوں کا حال نہایت قابل رحم ہوتا ۔

کاش پاکستان میں جہاں ہزاروں اقسام کی قانون سازیاں کی جاتی ہے وہیں مسجد کے چندوں کے حساب کتاب کے ساتھ ساتھ مسجد کمیٹی کے تمام اراکین کی آمدن کا سالانہ سرکاری آڈٹ کرانے کا حکم بھی جاری کردیا جاتا تو نہایت بہتر ہوتا ۔ اس طرح غبن کرنے کے رجحان میں واضح کمی ہوتی ۔ اور جس مسجد کمیٹی کا حساب مشکوک قرار پائے اِسے سلاخوں کے پیچھے باجماعت ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری کے ساتھ بھیج دیا جائے ۔ اور انکی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد بحق سرکار ضبط کرکے نئی مسجد کمیٹی کے سپرد کردیا جائے ۔ یہ اس عمل سے کم از کم مسجدوں میں کمیٹیوں کی اجارہ داری قائم نہیں رہ سکتی ہے کیونکہ انہیں پتہ ہوگا کہ غبن یا خیانت دینی چندے میں ہوا تو انجام شرمناک ہوگا ۔

المخلص
حنفی اُردو جماعت
دارالحکومت کراچی سابق
واٹس اپ نمبر ، 03108545499

تحریر کنندہ ؛ سید محمد شفیع قادری رضوی
۰۸ رمضان المبارک ۱۴۴۴ ، 29 مارچ 2023

 

 

In this article

Join the Conversation