تقسیم ہند اور تبادلہ آبادی

برصغیر پاک و ہند پر قابض برطانوی سامراجی قوتوں نے تقسیم ہند کرتے وقت نہایت عیاری کے ساتھ سیاسی اور سماجی شعور سے بنجر علاقے بانی پاکستان محمد...

121 0
121 0

برصغیر پاک و ہند پر قابض برطانوی سامراجی قوتوں نے تقسیم ہند کرتے وقت نہایت عیاری کے ساتھ سیاسی اور سماجی شعور سے بنجر علاقے بانی پاکستان محمد علی جناح صاحب کے حوالے کردیا ، جہاں پہلے سے ہی ہر سردار ہر نواب اور ہر جاگیردار ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار تھا ۔ اور اِن فساد زدہ علاقوں سے برطانوی راج کو نہ تو کوئ مالی منافع تھا نہ ہی موثر حکومتی رٹ انکی قائم تھی ۔ ماسوائے آپس کے قبائلی جھگڑوں کے جو درد سر تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی تسلط سے آزادی کی جنگ کا آغاز اس خطہ سے شروع ہی نہیں ہوا ۔ کیونکہ اس میں بیشتر سردار اور نواب ایسٹ انڈیا کمپنی کے نمک حلال دیسی غلام تھے ۔ جنکا کام صرف مخبری اور چاپلوسی کرنا تھا جس کے عوض انہیں جاگیریں عطا کی جاتی تھی ۔

 

آزاد وطن کے 75 پیچھتر سالوں بعد بھی یہی کالے انگریز پاکستان کی ہر سیاسی جماعت میں شامل ہو کر حکومت کر رہے ہیں ۔ ماضی کے مخبروں کی باقیات آج بھی خود کو محب وطن پاکستانی قرار دے کر پاکستانی عوام کے حقوق کی سوداگری بھرپور انداز میں کر رہی ہے اور عوام اپنا آئینی حق مانگنے کی بجائے سستا اور مفت آٹا کے طویل قطاروں میں لگ کر اپنی جان گنوا رہی ہے ۔ یہ ہے تقسیم ہند کا اصلی انعام جسے کالے انگریزوں نے اپنے برطانوی آقاؤں کے بتائے اور سمجھائے ہوے اصولوں پر عمل درآمد کروا رہی ہے ۔ کیونکہ بے حس عوام مدہوش ہے اسے صرف راشن چاہیے ۔

 

پاکستانی عوام کی شعوری زبوں حالی دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ قوم قلندر لاہور صوفی علامہ اقبال کے مطابق آسمانوں پر کمند ڈالے گی یا ایک پلیٹ بریانی ، قیمے والے نان کلچے اور چند ہزار روپوں کی خاطر اپنی آزادی اور حقوق کا سودا کالے انگریزوں کے ہاتھوں کرے گی ۔ کیونکہ تقسیم ہند کا فائدہ تبادلہ آبادی کی صورت میں ہندو اور سکھوں کو بھرپور ہوا جب کہ اس کے برعکس ہجرت کرکے پاکستان آنے والے مشرقی پنجاب ، یوپی ، سی پی اور بہار کے مسلمانوں کو نہ صرف مالی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ اپنی متروکہ جائیدادوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ۔ آج پیچھتر سالوں بعد بھی پاکستانی کینگروز کورٹ میں متروکہ وقف املاک کے جائیدادوں کا مقدمہ زیر التوا ہے کیونکہ آعلی عدالتوں کے جسٹس صاحبان شدید مصروف ہیں اپنی ڈرامہ بازیوں میں انکے پاس وقت کی قلت ہے وہ تقسیم ہند کے تبادلہ آبادی کے تحت متروکہ جائیدادوں کا مقدمہ چلانے یا سننے سے عاری ہیں کیونکہ یہ سارے شیطان بوٹوں والی سرکار کے جدی پشتی آئینی غلام ہیں ۔

 

جب کہ اس خطہ سے ہجرت کرکے انڈیا جانے والے سکھوں اور ہندو زمینداروں کو وہاں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ نہ ہی انکی اولادوں کو یا انہیں حقیر سمجھا گیا نہ ہی انکے بچوں کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کوئ زبان کے فرق کی بنیاد پر مارتا پیٹتا ہے نہ ہی کوئ ان ہجرت کنندہ لوگوں کی متروکہ جائیدادوں و زمینوں پر جبری قبضے کرتا ہے نہ ہی کوئ انہیں سمندر میں غرق کرنے کی دھمکی دیتا ہے نہ ہی انہیں آئ ایس آئ کا خود ساختہ ایجنٹ قرار دے کر انکے خلاف فوجی یا پولیس آپریشن کیا جاتا ہے نہ ہی اِن ہندؤ اور سکھوں کو کوٹہ سسٹم کا کوئی خوف لاحق ہے نہ ہی ہندو سرمایہ کاروں کی صنعت کو جبری طور پر نیشنالئزیشن کے نام پر قبضہ کیا گیا ۔

 

اِن تمام چشم کشا حقائق کو جاننے کے بعد بھی اگر پاکستانی عوام بیدار نہ ہو پائ تو اُسے غفلت کی نیند میں ہی موت کے گھاٹ اتار دینا چاہیے کیونکہ جو قوم اپنا حق متروکہ وقف املاک حاصل نہ کر سکتی ہو تو وہ آزادی کی نعمت کو بھی طوق غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیتی ہے ۔ مشرقی پنجاب ، بہار ، یوپی ، سی پی ، دہلی ، آگرہ ، پیلی بھیت ، حیدرآباد دکن ، میرٹھ کے مہاجرین کو اپنے جائز حقوق کی حفاظت کے لئے ٹھوس علمی اقدامات اٹھانے چاہئیے تاکہ خائن بیوروکریسی اور ڈکیت حکومتی نظام کے چنگل سے تبادلہ آبادی کے معاہدے کے تحت متروکہ جائیدادوں کا فوری قبضہ حاصل کیا جاسکے ۔

المخلص
حنفی اُردو جماعت
دارالحکومت کراچی سابق
واٹس اپ نمبر ، 03108545499

تحریر کنندہ ، سید محمد شفیع قادری رضوی

۱۵ رمضان ۱۴۴۴ ، 06 اپریل 2023

In this article

Join the Conversation